رابطہ عالم اسلامی کی ”اسلاموفوبیا“ کے خلاف عالمی دن پر بین الاقوامی ردعمل کی ستائش؛ مذہبی منافرت کے سدِباب کے لیے مؤثر قوانین اور قانون سازی کی دعوت
مکہ مکرمہ
رابطہ عالم اسلامی نے اسلام سے نفرت کے انسداد کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے موصول ہونے والی مؤثر شرکتوں، مثبت پیغامات اور خیرسگالی کے جذبات کو سراہا ہے۔ یہ دن ہر سال 15 مارچ کو منایا جاتا ہے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا ہے۔
رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں، سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی نے اس موقع پر ہونے والے مثبت بین الاقوامی تعامل اور قومی وابلاغی پلیٹ فارمز پر اس دن کے اہتمام کی اہمیت پر زور دیا، اور اس اقدام کو مسلم اقوام کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے کا ذکر کیا۔ تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ان اعلیٰ انسانی جذبات کو فوری اور مؤثر طور پر ایسے قوانین اور ضوابط میں تبدیل کیا جانا چاہیے جو مذہبی نفرت اور امتیاز کے مظاہر، بالخصوص اسلاموفوبیا کے خلاف مضبوط رکاوٹ بن سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نفرت انگیز بیانیے اور اس کے عملی مظاہر کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے، اور مذاہب وثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دیا جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اس نوعیت کے خطابات اور رویّوں میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ڈاکٹر العیسی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ اسلاموفوبیا نفرت انگیز خطاب اور اس کی نسلی وامتیازی شکلوں کے پھیلاؤ کی ایک نہایت تشویش ناک مثال ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے اثرات صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ رجحانات انتہاپسندی کو ہوا دیتے اور مذہبی وثقافتی تنوع رکھنے والے معاشروں میں تقسیم کو گہرا کرتے ہیں، جس سے جامع شہریت کے اُس تصور کو نقصان پہنچتا ہے جسے آئین تسلیم کرتے ہیں اور جس کی توثیق قوانین، اصولوں اور بین الاقوامی روایات میں بھی کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ اسلاموفوبیا درحقیقت ایک انسانی چیلنج ہے جو مذہبی وابستگی کی حدود سے ماورا ہے، کیونکہ یہ عالمی سطح پر بقائے باہمی اور سماجی امن کی بنیادی اقدار کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ معتبر اعداد وشمار کے مطابق بعض معاشروں میں مسلمانوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک کے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ بعض مسلم اقلیتوں کو سماجی حاشیہ نشینی، انضمام میں رکاوٹوں اور بعض حقوق سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
عزت مآب نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً دو ارب کے قریب مسلمان اپنے دین کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں اور مذہبی، نسلی اور تہذیبی تنوع سے بھرپور انسانی معاشروں کے ساتھ مثبت انداز میں تعامل کرتے ہیں۔ یہ رویہ اسلام کی اس تعلیم سے ماخوذ ہے جو انسانوں کے درمیان تعارف اور تعاون کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ منحرف اعمال اور نعرے جو جھوٹے طور پر اسلام کے نام سے منسوب کیے جاتے ہیں، درحقیقت مسلمانوں کی اکثریت کی نظر میں قابلِ مذمت اور مسترد ہیں اور اسلام کی تعلیمات واصولوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
آخر میں انہوں نے تمام مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور غلط فہمیوں کی اصلاح کے لیے کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی، تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے اس بنیادی کردار کی حمایت کی جائے جو وہ شعور اجاگر کرنے اور باہمی احترام وافہام وتفہیم کی ثقافت کو فروغ دینے میں ادا کرتے ہیں، خصوصاً نئی نسلوں میں، تاکہ ایک ایسا عالم تعمیر ہو سکے جس میں ہم آہنگی اور امن کا غلبہ ہو۔