رابطہ جامعاتِ اسلامیہ کی اسلامی ممالک کی طرف سے میثاق مکہ مکرمہ کی تائید کے موقع پر مبارک باد کا پیغام

رابطہ جامعاتِ اسلامیہ کی  اسلامی ممالک کی طرف سے میثاق مکہ مکرمہ کی تائید  کے موقع پر مبارک باد کا پیغام

قاہرہ:

رابطہ جامعاتِ اسلامیہ نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل  کی طرف سے میثاق مکہ مکرمہ کی تائید  اور اسے  اسلامی دنیا کے قومی اور علاقائی اداروں  کے لئے چاہے وہ دینی ، تعليمی  يا ثقافتی ادارہ ہوں ان کے لئے شائع کرنے کی  سفارش کے موقع پر مبارک باد کا پیغام دیا ہے۔بیان میں  واضح کیا گیا ہےکہ  یہ تائید  اس  تاریخی دستاویز  کی  اہمیت کی عکاس ہے ، جسے خادم ِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود حفظہ اللہ کی سرپرستی میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر سایہ مسلمانوں کے قبلہ مکہ مکرمہ میں تمام مسالک کے نمائندہ    بارہ سو  سے زائد  علمائے کرام ومفتیان عظام  اور  چار ہزار پانچ سو سےزائد اسلامی مفکرین  کی تائید حاصل رہی  ہے۔

رابطہ جامعاتِ اسلامیہ کے بیان میں کہاگیا ہے کہ یہ دستاویز اپنے اندر  انسانیت کی فلاح کے لئے  اعلی اسلامی اقدار سموئے ہوئے ہے، اور اس  میں  ریاست اور عوام کے  درمیان   روادری، مفاہمت   اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اختلاف اور تنوع  کو حکمتِ الہی ماننے  کی  سفارش  کی گئی ہے۔

رابطہ  جامعاتِ اسلامیہ   کے سیکرٹری جنرل  پروفیسر ڈاکٹر اسامہ العبد کی  طرف سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ  رابطہ جامعات اسلامیہ جس کے زیر سایہ دنیا بھر میں (200)  جامعات ہیں، اس دستاویز میں موجود  روشن اور لبریز مفاہیم کی اہمیت پر زور دیتی ہے ،جسے  اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کے   جمہوریہ نائجر میں وزرائے خارجہ کونسل کے 47 ویں اجلاس میں   اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی  حوصلہ افزائی حاصل ہوئی ہے۔رابطہ جامعاتِ اسلامیہ  اس اقدام   کو سراہتے ہوئے مختلف مذاہب اور تہذیب کی حامل ریاست  اور عوام کے  درمیان   روادری، مفاہمت   اور تعاون کی امیداور  سلامتی اور پُر امن بقائے باہمی کے فروغ کی خواہش مند ہے۔

ڈاکٹر  اسامہ العبد نے رابطہ عالم اسلامی کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے دنیا بھر کو  اسلام کی  اعتدال اور وسطیت سے روشناس کرنے کے عزم کو سراہا ہے، تاکہ دنیا  اسلام کی حقیقت سے باخبر ہو   جو انسانی اخوت، پیار  اور محبت  کی تعلیم دیتاہے اور انصاف پر مبنی عالمی امن    کی ضرورت اور انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہے۔