جنیوا اعلامیہ

جنیوا اعلامیہ

نوجوانوں کا انتہاپسندی،متشدد نظریات  سے تحفظ

مذہبی آزادی اور رواداری اقدار کے فروغ

اور نفرت اور تنہا کرنے کا مقابلہ کرنا

ــــــــــــــــــــــــــــــ

 رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی کی طرف سے پیش کردہ  نوجوانوں کا انتہاپسندی اور متشدد نظریات سے تحفظ کے لئے  تجاویز اور ان پر عمل در آمد کے طریقۂ کار کے عنوان پر اقوام متحدہ کے صدر مقام جنیوا میں  منگل اور بدھ 18اور 19فروری 2020 کو کانفرنس کا انعقاد ہوا۔

کانفرنس کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والے  دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ،جس میں اعلی سرکاری اور سول  عہدیدار  جن میں مذہبی ،سیاسی، اہلِ فکر  اور سیکورٹی سے متعلقین کے ہمراہ تعلیمی میدان  سے تعلق رکھنے والے  نفسیات اور سوشیالوجی کے ماہرین بھی موجود تھے۔

كانفرنس میں اہم مذہبی  او رسیاسی رہنماؤں نے شرکت کی  اور  حکومتی اور پارلیمانی صدور  کے علاوہ  انتہاپسندی،   شدت پسندی،  دہشت گردی اور مذہبی آزادی   کے موضوع سے متعلقہ شخصیات اور  دنیا بھر میں  نفرت اور تنہاکرنے کے خلاف  بات کرنے والے متعدد پارلیمنٹیرین اور وزراء  بھی شریک ہوئے۔

کانفرنس کے موضوعات نے اپنے عنوان اور اس  سے متعلقہ موضوعات پر متعدد  اہم  تجاویز  پر روشنی ڈالی،تجاویز سے متعلق مقررین کی بہترین تیاری نے مہمانوں کو کھل کر بات کرنے میں مدد کی اور مباحثہ سیکشن میں بہت اہم معلومات نظریات اور تجاویز سامنے آئیں۔ کانفرنس کے عنوان سے متعلق متعدد مسائل کی درست تشخیص اور تجزیہ میں گمشدہ روابط کا کردار اداکرتے ہوئے ان کے حل کے لئے اہم تجاویز پیش کیں۔

کانفرنس میں مندرجہ ذیل سفارشات اور قراردادوں کا اجراء ہوا:

1 - دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کو  رغبت دی گئی کہ وہ  تربیت یافتہ اساتذہ  کے تعاون سے مؤثر پروگرام کے ذریعے ایسا نصابِ تعلیم تخلیق کریں  جو بچوں اور کم عمر نوجوانوں کی صحیح ذہنی تربیت میں معاون ہوں(اس اعتبار سے کہ یہ استحکام ،ہم آہنگی ، معاشرتی ترقی اور قومی وقار  کے لئے خصوصاً جبکہ  انسانی امن کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے) اور ان مؤثر پروگراموں میں درج ذیل امور پر توجہ مرکوز ہو۔

ا- لوگوں   کو یہ باور کرانا کہ  تنوع اور تعددیت  ایک حقیقت ہے اور یہ اپنے مثبت صورت میں انسانیت کے لئے ایسی ثروت ہے جو اس کی خوش حالی اور اتحاد میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ب - لوگوں کہ یہ باور کرانا کہ مذہبی ،نسلی، فکری اور تہذیبی تصادم قومی سلامتی ،عالمی امن ،اور اقوام  کے مابین یکجہتی میں عموماً اور قومی معاشروں کے درمیان ہم آہنگی  کے لئے خصوصاً خطرناک ہے، اور انسانی تاریخ کے مثالوں سے اسے  واضح کیا جائے۔

ج- بچوں اور کم عمر نوجوانوں کے نصاب تعلیم میں سے ان تمام نصوص اور تاریخی واقعات کو خالی  کیا جائے جو تنازعہ اور نفرت کے فروغ کا باعث ہوں اور عداوت اور نسل پرستی کو ہوا دیں۔

د- انسانوں کے درمیان مساوات پر زور دیاجائے اور ان میں ترجیح صرف اقدار، تخلیقی صلاحیتوں اور انسانیت کو نفع پہنچانے میں ہے۔اوریہ قومی امتیاز کی اولویت کے منافی نہیں ہے کیونکہ وہ  وفاداری،  فائدہ دینے  اور قربانی  میں مقدم ہے ۔

ھ- تمام انسانوں کے درمیان باہمی احترام کی اہمیت پر زوردینا کہ یہ معاشروں کے امن وہم آہنگی کے لئے ایک بنیادی امر ہے۔

و- طلبہ کو مکالمہ کی تربیت،انہیں منفی خیالات اور کاموں سے نمٹنے کے طریقے سکھانا اور اس کے ساتھ  رواداری اور چشم پوشی اقدار کی اہمیت اجاگر کرنا۔

  ز- نفرت، نسل پرستی  اور تنہا کرنے کے نظریات کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کرنا، چاہے اس کے اسباب کچھ بھی ہوں ۔

2- ہر ملک کے ذمہ دار حکام کو چاہئے کہ وہ  بچوں اور نوجوانوں کی مثبت ذہنی نشو ونما کے لئے خاندن کے کردار کے فروغ کے لئے مؤثر پروگرام مرتب  کریں۔

3- تنوع والے ممالک میں مذہبی، تہذیبی اور نسلی تقسیم کے منفی پہلؤں  کے خاتمے کے لئے ،جو یکجتی کے معاملے کسی مسئلے یا کسی خطرے سے دوچار ہیں،مؤثر پروگرام مرتب کرنے اور متعدد شرکاء بنانے کی اہمیت پر زور۔

4- نفرت انگیز،  نسل پرستی اور تنہا کرنے پر مبنی تقاریر کے روک تھام کے لئے قانون سازی کی ضرورت۔اس کے ساتھ قومی ریاست کو ان احتیاطی تدابیر کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے طریقۂ کار کو جو اس کی  تہذیب کو نشانہ   یا جغرافیائی حدود کوتبدیل کرنے کی کوشش کرے جو اکثریت کے ذریعے تشکیل دی گئی ہو  اسے روکے، مگر اس میں شہری حقوق کا خصوصاً اور انسانی حقوق کا عموماً خیال رکھناہوگا۔

5- مذہبی اور فکری اداروں کے قیام کی ضرورت،جو انتہاپسندی، تشدد اور دہشت گردی  کے حامل نظریات کے سدّ باب کے لئے ان نظریات کی تفصیلات میں گہرائی  کے ساتھ جاکر اس کے اسباب کا مطالعہ کریں۔

6- انتہاپسندی، تشدد اور  دہشت گردی کی طرف  شعور سے عاری جذبات کو برانگیختہ کرنے کے تمام اسالیب کے روک تھام کے لئے قانون سازی  کی ضرورت۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ سائبر دہشت گردی کو جرم قرار دینے کے لئے مزید مؤثر اقدامات کرے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس کا پابند کرے کہ تشدد یا دہشت گردی  کی معاونت کے لئے  استعمال ہونے والے ایسے تمام اکاؤنٹس کو منسوخ کرے  جن میں یہ مواد موجود ہوں۔

7- تمام مذہبی اور فکری اثر ورسوخ کے پلیٹ فارمز کو دعوت دی جائے کہ وہ ایسا بیان پیش کریں جو جذبات احساسات اور روح سے  آگے بڑھ کر منطق  او رحقیقت کو مخاطلب  ہو۔

8- مقامی حالات کی رعایت کئے بغیر فتاوی اور  مذہبی خیالات کی برآمدی پر پابندی۔اس بنیاد پر کہ مذہبی روشن فکر وقت، مکان اور حالات کی مناسبت سے فتاوی اور خطبات کی تبدیلی کی رعایت رکھتاہے۔مذاہب عالمین کے لئے رحمت، ان کے ساتھ نرمی اور ان کے حالات کی درستگی کی صورت میں   ان کے مصالح کے حصول کے لئے آئے ہیں۔اور یہ امن اور ہم آہنگی کے حصول میں ایک بنیادی نکتہ ہے۔

9- کسی بھی   مقامی  جماعت کے لئے بیرون ملک سے آنے والے مذہبی مالی معاونت کو روکنے کی ضرورت۔

10- مذہبی طبقہ کی مقامی حالات سے خارج تربیت، یا بیرون ملک سے ان کے تربیت کے لئے افراد لانے کی ممانعت۔

11- کسی بھی دینی  مرکز پر کسی بھی طرح کی بیرونی سرپرستی پر پابندی ہو،بشمول ان مراکز کے جن نام دینی نہیں مگر ان کی سرگرمیاں دینی ہیں۔اور ان مراکز کو مذہبی انتہاپسندی کے مقابلے کے لئے مؤثر پروگراموں پر عمل درآمد  اور قومی ہم آہنگی کے فروغ  میں  اپنے کردار اداکرنے کی ضرورت ہے۔

12- کانفرنس جنیوا میں تہذیبی رابطے  کے لئے ایک مرکز کے قیام کی سفارش کرتی ہے، جو مکالمہ،اقوام کے مابین دوستی اور تعاون کےفروغ کا پلیٹ فارم ہو، جس میں مذہبی ،تہذیبی اور نسلی فاصلوں کے منفی پہلوؤں کا مذہبی مشترکات کے قانون کے ذریعے خصوصاً اور انسانی مشترکات کےذریعے عموماً خاتمہ کیا جائے، جو ہماری دنیا کے امن اور ہم آہنگی کی ضامن ہے،اور  مذکورہ مرکز میں مذہبی ،نسلی اور دیگر تنوع کی نمائندگی ہو۔

13- اسلام فوبیا اور سام دشمنی سمیت مذاہب اور نسلوں کے پیروکاروں کے خلاف کسی بھی جارحیت  یا ان  کے خلاف برانگیختہ کرنے کے خلاف قانون سازی  کی جائے۔

14- مذہبی رہنماؤں کو عالمی امن ، مذہبی اور نسلی ہم آہنگی کی کوششوں کوبارآور کرانے اور تہذیبی اتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے ،  نوجوانوں کے لئے مکالمہ پروگرام   اور مذہبی اور انسانی مشترکات پر کام کی ترغیب دی جائے۔

15- مذہبی آزادی  انسانی حقوق میں سے ایک اہم حق  ہے۔اس میں کسی پر زبردستی،حق تلفی ،زیادتی کا نشانہ بنانا یاتنہاکرنا جائز نہیں ہے ۔دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔

16- مذاہب کے  بعض پیروکاروں کی غلطیاں مذاہب  کی ترجمان نہیں ہیں۔

17- اقدار اپنی کشادگی،  رواداری اور تہذیبی منطق   میں موضوعی  مکالمہ کے  فاتح ہیں۔

18- انسان  برائی ،نسل پرستی یا نفرت کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا ۔بلکہ تعلیمی، خاندانی اور معاشرتی ماحول  اور منفی سیاسی مباحث  منفی اخلاق کو پیدا کرتی ہیں۔

19- مذاہب کی توہین مضحکہ خیز عمل ہے۔اس کی طویل تاریخ ہے۔اس کی ہمیشہ  مختلف صورتوں میں مذمت کی گئی ہے۔

بین المذاہب مکالمہ  کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ اخلاقی فریم ورک میں رائے اور دین داری کا احترام  ضروری ہے۔اس توہین کے عمل سے تہذیبی تصادم اور دونوں اطراف کے انتہاپسندہی  فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور اس میں سب کا مشترکہ نقصان ہے ،جبکہ متشدد انتہاپسندی کے رد عمل کے ذریعے ریاست اورمعاشروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

20- مذہبی رہنماؤں،اور متعلقہ فکری معاشرتی اور  انسانی حقوق کے اداروں-بین الاقوامی،حکومتی اور سول-

سے اپیل کی جائے کہ وہ مشترکہ بین  الاقوامی پروگراموں کے ذریعے مؤثر اور سنجیدگی سے  رواداری اور تہذیبی اتحاد کے لئے عملی اقدامات کریں۔ اور اپنے  مستحق حقوق سے   رواداری اور درگذر کے حقیقی معنی  اور تہذیبی اتحاد کی طرف ٹھوس اثر کے ساتھ تنازل کریں جسے  محسو س بھی کیا جاسکے۔

21- سفارش - عام اصولوں کے حوالے سے-مجوزہ عمل کے طریقۂ کار کے ساتھ ان  تجاویز کو اپنانے کی ضروت ہے:

ا- تجویز: ”عالمی امن اور مفاہمت ...اورمعاشرتی ہم آہنگی ویکجہتی کے لئے“  اقوام کے درمیان دوستی اور تعاون۔

ب- تجویز: رویوں کی ساخت کے لئے بلوغت سے قبل جامع تعلیم۔

ج- تجویز: مذہبی طرزِ عمل جذباتی ہیجان اور شعور کی کمی کے  درمیان۔

د- تجویز: بچوں اور  کم عمر نوجوانوں کے لئے خاندان  بحیثیت  ايك نگہبان  اور اہم جزو۔

ھ- تجویز: تہذیبی امن۔

و- تجویز: اسلام فوبیا  ”تشخیص ،تجزیہ اور علاج“ ۔

ز- تجویز: جدید نازیت اور سام دشمنی ”تشخیص ،تجزیہ اور علاج“ ۔

ح- تجویز: مذہبی نوجوانوں میں  تہذیبی سلوک کی تشکیل۔

ط- تجویز: مذہبی نوجوانوں کی انتہاپسندی کے اسباب اور علاج۔

ی- تجویز: ہم تشدد اور دہشت گردی کا خاتمہ کیسے کریں ؟۔

ک- تجویز: مذہبی آزادی کی تشخیص  اورعلاج میں غلطیاں اور نتائج۔

ل- تجویز: آئیڈیل ازم اور حقیقت پسندی۔

م- تجویز: مذہبی نوجوان کی سوچ میں غلطیاں اور اس کا علاج۔

ن- تجویز: پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف جنگ،سوفٹ پاور اور ہارڈ پاور کے درمیان۔

س- تجویز: اجتماعی منفی ذہنیت کاخاتمہ”مسلم نوجوان کی مذہبی  کیفیت کا مطالعہ“ ۔

ع- تجویز: ”نظراندازی اور غربت“ انتہاپسندی اور متشدد انتہاپسندی کی وجوہات کے طورپر”تشخیص ،تجزیہ اور علاج“  ۔

ف- تجویز: ”انتہاپسندی  کی طرف سے پیش کردہ مذہبی متون اور تاریخی حقائق  استدلالات کا معالجہ“ تجویز میں  گذشتہ بیس سالوں میں انتہاپسندی کے خلاف فکری کوششوں کی ناکامی کے اسباب پر غور کیا گیا ہے۔

ص- تجویز: ”پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف نئے میڈیا  کے استعمال ) “کے لئے تین تجاویز۔

ق- تجویز:”انتہاپسندی  اور متشدد انتہاپسندی کے مطالعہ میں درست اعداد وشمار“ ۔

ر- تجویز:”انتہاپسندی اور متشدد انتہاپسندی  کے خلاف جنگ میں  ذمہ داری کا تعین، کاموں کی تقسیم اور نتائج کاموازنہ“۔

ش- تجویز:”انتہاپسندی اور متشدد انتہاپسندی کے خلاف مناسب سیکورٹی رد عمل“۔اس تجویز میں ممالک کے مابین قانون سازی اور معاشرتی تفاوت کو مد نظر رکھاگیا ہے۔

ت- تجویز:”پرتشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی  کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی کوششوں کا موازنہ“۔

ث- تجویز:”مشترکہ اقدار“۔

خ- تجویز:”امن  کے  قیام کے لئے مذہبی بیانیہ“۔

ذ- تجویز:”یورپ اور اسلام“۔

ض- تجویز:”یورپ میں انضمام کی وزارتیں“۔

ظ- تجویز:”اسلام سے کس چیز کا خوف اور سام دشمنی کیوں“؟۔

غ- تجویز:”مذہبی اور قومی شناخت   مخالف اور موافق   تصورات کے درمیان“۔

22- بقیہ تجاویز کو مزید مطالعہ اور جائزہ کے بعد انہیں  کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں پیش کرنا۔

23- كانفرنس كی انتظامیہ  کانفرنس کے فیصلوں اور سفارشات پر عمل درآمد کے لئے ایک ”رابطہ کمیٹی“تشکیل دے گی جو   اپنی رپورٹ مقررہ  اوقات میں پیش کرتی رہے گی۔