فریضۂ حج عبادت اور اطمینان کا نام ہے۔ اس میں کسی طرح کی سیاسی اور فرقہ وارانہ نعروں کی گنجائش نہیں۔ ڈاکٹر محمد العیسی

فریضۂ حج عبادت اور اطمینان کا نام ہے۔ اس میں کسی طرح کی سیاسی اور فرقہ وارانہ نعروں کی گنجائش نہیں۔ ڈاکٹر محمد العیسی

مکہ مکرمہ / واس
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر عالمی ادارہ برائے علمائے اسلام ،عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے کہاکہ ہے کہ: فریضۂ حج اللہ تعالی کی عبادت ہے ،اور ان مبارک ایام کو اللہ تعالی کا تقرّب حاصل کرنے کے لئے عبادت میں صرف کرنا چاہئے اور کسی بھی ایسی سرگرمی اور خلاف وزی سے احتراز کرنا چاہئے جو شرعی مقاصد سے تجاوز ہو۔
انہوں نے کہاکہ: اس فریضے میں سیاسی، گروہی اور فرقہ واریت کے نعرے، حج میں فحش بات، گناہ اور جھگڑے کے زمرے میں آتے ہیں، جس کا ذکر اللہ تعالی کے کلام مجید میں ہے : ”حج کے چند متعین مہینے ہیں، چنانچہ جو شخص اس مہینے میں اپنے اوپر حج لازم کرلے تو حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے، نہ کوئی گناہ، نہ کوئی جھگڑا“۔
ڈاکٹر العیسی نے کہاکہ:الحمد للہ مملکت سعودی عرب نے فریضۂ حج کے روحانی ماحول اور مکمل سکون کے ساتھ ادائیگی کے لئے تمام ضروری سہولیات مہیا کی ہوئی ہیں اور ضیوف الرحمن کی خدمت مملکت کی ذمہ داریوں میں سے ہے، وہ کسی بھی ایسے کام کی اجازت نہیں دے گی جس سے ان کے فریضۂ حج کی ادائیگی میں پریشانی ہو،اس طرح وہ اپنے اس فریضۂ منصبی کی ادائیگی میں کامیاب ہوگی جسے اللہ تعالی نے حرمین شریفین کی خدمت کے شرف کی صورت میں اسے عطا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ: جس نے اس پاک سرزمین کے سکون کوخراب کرنے، اس فریضے میں رکاوٹ بننے یا اس کی طرف جانے والوں کونشانہ بنانے کا ارادہ کیا، باری تعالی نے اسے عذابِ الیم سے خبردار کیا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ”جو شخص اس ميں ظلم کرکے ٹیڑھی راہ نکالے گا ،ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے“۔
انہوں نے کہاکہ: ہر مسلمان یہ جانتاہے کہ شریعت میں فریضۂ حج کے مخصوص اعمال ہیں،جو اس کے ارکان، واجبات اور سنن پر مشتمل ہیں، اور اس کے علاوہ کو ئی بھی دیگر عمل شریعت کے اعمال کی خلاف ورزی ، اور اس کے زمان ومکان کی قدسیت اور ا س کے امن وسکون پر حملہ ہے،جس امن وسکون کا اللہ تعالی کے ارشاد گرامی ”جو اس میں داخل ہوا اسے امن مل گیا “ میں ذکر ہے۔