حوثی دہشت گرد ملیشیا کے جرائم کے حوالے سے رابطہ عالم اسلامی کو موصول ہونے والے ’’شرعی مؤقف‘‘ اور ’’اظہارِ یکجہتی‘‘ سے متعلق بیان:

رابطہ عالم اسلامی کو حوثی دہشت گرد ملیشیا کے اس سنگین جرم کی شدید مذمت پر مبنی متعدد خطوط موصول ہوئے ہیں، جس میں اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغاوت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے علاقے اور سعودی عرب کے دیگر شہروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ شرعی مؤقف اور اظہارِ یکجہتی اسلامی قیادتوں، اداروں، اکیڈمیوں اور کونسلوں کی جانب سے، ان کے افراد اور آزاد اداروں سمیت، ارسال کیے گئے ہیں۔ ان میں فتویٰ دینے والے ادارے اور شعبے بھی شامل ہیں، جن سے اسلامی ممالک اور مسلم اقلیتی ممالک میں کروڑوں مسلمان وابستہ ہیں۔ ان  خطوط میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس حملے نے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور حرمین شریفین کی حرمت ایک ایسا مضبوط حصار ہے جس کے خلاف جس کسی نے بھی دست درازی کی کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے اسے پسپا کر دیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی قیادت کی امانت دار قیادت اور اعلیٰ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس شخص کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوگی جو اس پُرامن حرم کی حرمت کو ظلم والحاد کے ذریعے پامال کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

ان شاء اللہ تعالیٰ، یہ خطوط یکے بعد دیگرے رابطہ کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں گے۔

Post date سنیچر, 19 September 2026