رابطہ عالم اسلامی کی غزہ تنازع کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی شدید مذمت

رابطہ عالم اسلامی کی غزہ تنازع کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی شدید مذمت

مکہ مکرمہ:
رابطہ عالم اسلامی نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر عمل درآمد مکمل کرنے کے روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس منصوبے کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے توثیق کی جاچکی ہے۔ رابطہ نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیے جانے کی بھی مذمت کی ہے۔

رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں، سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے اس انکار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی اور امن کی تمام کوششوں کو نقصان پہنچانے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔

ڈاکٹر العیسی نے اسرائیل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے اور اس سے متعلق روڈ میپ میں درج تمام ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کا پابند بنانے، منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد آگے بڑھانے اور کسی بھی فریق کو اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے سے روکنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے اس ضمن میں مملکتِ سعودی عرب، جمہوریہ مصر، مملکتِ اردن، اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، ریاستِ قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے جاری کردہ بیان کو بھرپور سراہا، نیز فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی مضبوط یکجہتی اور ان کے جائز حقوق، بالخصوص ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کی مستقل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔

Post date اتوار, 16 August 2026