عالم اسلامی کی تقریب نیویارک میں: ’’مصنوعی ذہانت سب کے لیے… ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘
رابطہ عالم اسلامی کی تقریب نیویارک میں: ’’مصنوعی ذہانت سب کے لیے… ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ مرکزی نشست اول: ’’مذہب اور مصنوعی ذہانت‘‘ نشست کی صدارت: مسٹر اینڈرو سولنگر — چیف ایگزیکٹو آفیسر، فارن پالیسی میگزین مقررین: ڈاکٹر رابی سارنا — نیویارک یونیورسٹی ڈاکٹر جہاد ترک — بیان اسلامک گریجویٹ اسکول ڈاکٹر ڈیوڈ میلی — لاطینی مسیحی بطریرکیٹ، القدس نشست میں درج ذیل امور پر گفتگو ہوئی: * نشست میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مذہبی قیادتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے مواد میں اُن اخلاقی تجاوزات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کریں جو مختلف مذاہب کے مشترکہ دینی و اخلاقی مفادات سے متعلق ہیں۔ اس کردار کے فقدان کی صورت میں معاشرے اُن عناصر کے لیے زیادہ آسان ہدف بن سکتے ہیں جو غلط معلومات پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کے رویّوں کو منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ *اس بات کی بھی دعوت دی گئی کہ مصنوعی ذہانت کے میدان کے ساتھ تعامل انسانی ضمیر کی صحت مند اقدار اور اخلاقی تقاضوں کی بنیاد پر کیا جائے، اور اسے نہ تو ایک حقیقی انسان کے طور پر دیکھا جائے اور نہ ہی بذاتِ خود ایک قابلِ اعتماد ماخذ سمجھا جائے، خصوصاً اس لیے کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسی غلط، گمراہ کن اور ہدفی معلومات بھی نہایت قائل کرنے والے انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ *نشست میں رابطہ عالم اسلامی کی اُن کوششوں کو سراہا گیا جن کے ذریعے اسلامی علوم کے وسیع علمی ورثے کو ڈیجیٹل شکل دے کر سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی اور چیئرمین مسلم علماء کونسل کے خطاب کو بھی مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کے لیے ایک دینی نقطۂ نظر سے پیش کردہ جامع لائحۂ عمل قرار دیا گیا۔ *شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو شفافیت کے اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے، اور اس ٹیکنالوجی کو خیر کے فروغ اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔