سب کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘پروگرام کے اہم موضوعات میں شامل مذہبی شراکت سے متعلق نشستوں کی چند جھلکیاں۔ اس پروگرام کا اہتمام رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اعلیٰ سطحی ہفتے کی سرگرمیوں کے ضمن میں کیا۔
سب کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘پروگرام کے اہم موضوعات میں شامل مذہبی شراکت سے متعلق نشستوں کی چند جھلکیاں۔ اس پروگرام کا اہتمام رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسی ویں اعلیٰ سطحی ہفتے کی سرگرمیوں کے ضمن میں کیا۔ ان نشستوں کا مقصد مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کے بارے میں ایک مشترکہ مذہبی وژن تک پہنچنا تھا، تاکہ اس شعبے میں مشترکہ دینی اقدار کی نمائندگی کرنے والی ایک تجویز مرتب کی جا سکے، جسے بعد ازاں اقوام متحدہ کی سطح پر اختیار کیے جانے کی راہ ہموار ہو، اور مصنوعی ذہانت کے مواد کی تشکیل میں اس سے استفادے کے امکانات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ قابلِ ذکر ہے کہ رابطہ عالم اسلامی نے مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کے حوالے سے اپنا اسلامی نقطۂ نظر بھی پیش کیا، اور اس امر کی دعوت دی کہ مصنوعی ذہانت کے مواد میں اسے ملحوظ رکھا جائے، کیونکہ یہ دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کی مشترکہ اخلاقی اقدار کی ترجمانی کرتا ہے۔ مذاکراتی نشستوں میں سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی نے شرکت کی، جبکہ اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی نمائندگی بھی موجود رہی۔ اجلاس میں امریکہ کی بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں، عالمی بینک، ممتاز امریکی جامعات، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے منصب کے متعدد نمایاں امیدواروں، اور مذہبی، فکری، سیاسی و علمی قیادت کی ایک ممتاز تعداد کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے مطالعاتی مراکز کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔